دُھن اس کی دن رات ضروری ورنہ بات ادھوری
اس کے نام حیات ضروری ورنہ بات ادھوری
واجب ہے آگے آگے لہرانا خواب پھریرا
رکھنی پیچھے ذات ضروری ورنہ بات ادھوری
اندر باہر ایک نہیں تو لیکھ لکھیں خود کیسے
پاس ہو یہ سوغات ضروری ورنہ بات ادھوری
سہل نہیں اِن دشمن رستوں شوق سفر ہو پورا
اپنے رُخ بھی گھات ضروری ورنہ بات ادھوری
ہمراہی ہونے سے منزل ایک نہیں ہو جاتی
دل سے دل کا ساتھ ضروری ورنہ بات ادھوری
سبز رتوں کی شادابی ہر گوشۂ باغ تک آئے
سب شاخوں پر پات ضروری ورنہ بات ادھوری
موسم چاہے مہجوری کا جتنا درد بڑھائیں
دل میں ایک نشاط ضروری ورنہ بات ادھوری
سوکھے حرفوں کیسے ممکن سینوں کی سیرابی
اشکوں کی برسات ضروری ورنہ بات ادھوری
باہر سے ہشیار مسلسل کبھی کبھی پر عالی
اندر بھی اک جھات ضروری ورنہ بات ادھوری
